Saturday, December 29, 2012

تنِ تنہا کسی سے لڑنا ہے

تنِ تنہا کسی سے لڑنا ہے

اب نہتا کسی سے لڑنا ہے
پہلے جس کی کوئی مثال نہ ہو
مَیں نے ایسا کسی سے لڑنا ہے
وجہ کوئی نہیں ہے لڑنے کی

یُونہی سوچا کسی سے لڑنا ہے
دیکھنا بھی نہیں اُسے مَیں نے

ہو کے اندھا کسی سے لڑنا ہے
دائرے توڑ پھوڑ دینے ہیں

آڑا ترچھا کسی سے لڑنا ہے
وُہ شکایت نہ کر سکے مُجھ سے

کر کے نشہ کسی سے لڑنا ہے
پہلے خُود کو سمیٹ لینا ہے

پھر ا کٹھا کسی سے لڑنا ہے
دعوتِ عام ہے چراغوں کو

ایک شُعلہ کسی سے لڑنا ہے
ایک آدھا تو خُود سے اُلجھے گا

باقی آدھا کسی سے لڑنا ہے
لڑ کے آیا ہوں اس لئے کہ مُجھے

اب دوبارہ کسی سے لڑنا ہے
اس لئے بھی مَیں لڑتا رہتا ہوں

سب سے سستا کسی سے لڑنا ہے
مَیں نے خُود کو شکست دے دی رضا

مَیں نے اب کیا کسی سے لڑنا ہے

شاعر:  رفیع رضا