Saturday, December 29, 2012

تُو خُود ہی دیکھ دستِ قضا! تُو نے کیا کیا

تُو خُود ہی دیکھ دستِ قضا! تُو نے کیا کیا
بندوں نے یہ کیا تو بتا! تُو نے کیا کیا


میری نظر بھی ہو گئی اُس سے لہولہان
منظر کو رنگ ایسا عطا تُو نے کیا کیا
دُشمن تو کر رہا ہے جو کرتی ہے دُشمنی
حق اپنی دوستی کا ادا تُو نے کیا کیا
اُٹھّے ہُوئے یہ ہاتھ بھی گرنے لگے ہیں اب
پلٹی نہیں کسی کی دُعا تُو نے کیا کیا
چُپ چاپ میرے سر پہ تنے آسمان دیکھ
اپنی زمین پہ شور بپا تُو نے کیا کیا
“انساں لہو بہائے گا! ” تُجھ سے کہا گیا
“میں جانتا ہوں”! تُو نے کہا ، تُو نے کیا کیا
گرنے دے آنکھ سے یہی آنسو لہو بھرا
سب تُجھ سے پُوچھتے ہیں رضا تُو نے کیا کیا


شاعر:  رفیع رضا