Saturday, December 29, 2012

نیند پلکوں کی جھالر کو چھُوتی ہوئی

نیند پلکوں کی جھالر کو چھُوتی ہوئی
اوس میں اپنا آنچل بھگو کے

مرے دُکھتے ماتھے پہ رکھنے چلی ہے
مگر__آنکھ اور ذہن کے درمیاں
آج کی شب وہ کانٹے بچھے ہیں
کہ نیندوں کے آہستہ رَو، پھول پاؤں بھی چلنے سے معذور ہیں
ہر بُنِ مو میں اِک آنکھ اُگ آئی ہے
جس کی پلکیں نکلنے سے پہلے کہیں جھڑ چکی ہیں
اور اب ، رات بھر
روشنی اور کھُلی آنکھ کے درمیاں
نیند مصلوب ہوتی رہے گی!
شاعرہ:  پروین شاکر